تم لوٹ آؤ ناں

تم لوٹ آؤ ناں غزل – خاموشی کے رنگ
تُم لوٹ آؤ ناں، یہ خاموشی بوجھ بن گئی
رات کے کانپتے سایوں میں خواب ادھورے رہ گئے

ہر سانس میں تمہاری کمی، ہوا بھی روٹھ گئی
دل کے زخموں پر نمک آنسوؤں نے چھڑک دیا

وہ پل جو ہم نے ساتھ گزارے، اب یاد بن گئے
ہر لمحہ اب ترستا ہے، تم بین تیرے گزرے نہ

چاندنی راتوں میں اب تنہائی کا راج ہے
ستارے بھی روتے ہیں جب تم یاد آتے ہو

کاغذ کے پھول بھی مرجھا گئے تیرے بغیر
قلم رو پڑتا ہے جب تیرا نام لکھتا ہوں

وہ وعدے، وہ باتیں، وہ ہنسی کے جھونکے
اب سب خوابوں میں گم، جاگتے آنکھیں بھگو دیتے ہیں

میں نے سمندر سے پوچھا تمہارا پتہ
لہریں بھی خاموش ہوئیں، بس آنسو بہا دیے

تُم لوٹ آؤ ناں، یہ دل اب تنہائی سے ڈر گیا
بے چین ہے یہ روح، تمہاری آرزو میں مر گیا تم لوٹ آؤ ناں۔ بس آ جاؤ ناں۔

انگریزی شعری ترجمہ (Come Back, Please)

Come back, this silence has turned into a burden In the trembling shadows of night, dreams remain incomplete

Every breath feels your absence, even the breeze has turned away My heart’s wounds sting as tears sprinkle salt upon them

Those moments we spent together have now become mere memories Every second yearns, unable to pass without you

Moonlit nights are now ruled by loneliness Even the stars weep when remembrance of you arrives

The paper flowers have withered in your absence The pen breaks into tears when it writes your name

Those promises, those conversations, those bursts of laughter Now lost in dreams, they soak waking eyes

I asked the ocean for your address The waves fell silent and only shed tears

Come back, please, this heart now fears solitude This restless soul has died longing for you,

تشریحِ غزل – دل کی گہرائی سے

یہ غزل 2024 کے خزاں کے آخری دنوں میں لکھی گئی جب ہوا میں سرسری سی سردی تھی اور دل میں طوفانِ جدائی۔ ہر شعر ایک ایک کر کے کھلتا ہے جیسے کوئی پرانا زخم دوبارہ ہرا ہو جائے۔

پہلا شعر: خاموشی کو “بوجھ” کہنا کوئی معمولی بات نہیں۔ خاموشی جب بوجھ بن جائے تو سانس بھی بھاری ہو جاتی ہے۔ دوسرا شعر: سانس میں کمی۔۔۔ یعنی اب سانس لینا بھی عذاب لگتا ہے۔ تیسرا شعر: وہ لمحات جو ہم نے ساتھ گزارے۔ اب وہ یاد بن کر دل میں چھریں مار رہے ہیں۔ چوتھا شعر: چاندنی راتوں میں تنہائی کا راج۔۔۔ یہ شعر میں نے اس رات لکھا جب چودھویں کا چاند تھا اور میں کھڑکی پر کھڑا رو رہا تھا۔

پانچواں شعر “کاغذ کے پھول بھی مرجھا گئے” میرا سب سے ذاتی شعر ہے۔ میں نے اپنی ڈائری میں تمہارے نام کے پھول بنائے تھے، اب وہ بھی خشک ہو گئے۔ ساتواں شعر: سمندر سے پوچھنا۔۔۔ سمندر بھی خاموش، کیونکہ وہ بھی تمہیں ڈھونڈتا پھرتا ہے۔

آخری شعر میں “ناں” کا لفظ جان بوجھ کر ڈالا۔ “ناں” میں التجا بھی ہے، ضد بھی ہے، بچوں والی ضد۔ جیسے کوئی بچہ رو رو کر ماں سے کہتا ہو “اب بس کرو ناں، آ جاؤ ناں”۔

یہ غزل صرف جدائی کی نہیں، انتظار کی بھی ہے۔ انتظار جو روح کو کھا جاتا ہے لیکن پھر بھی چھوڑتا نہیں۔

آخر میں قاری سے گزارش

اگر تم بھی کبھی کسی کے بغیر ادھوری راتوں سے گزرے ہو تو کمنٹ میں بس ایک لفظ لکھ دینا: “میں بھی” بس اتنا کافی ہے۔ ہم سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔

تم لوٹ آؤ ناں۔۔۔ بس آ جاؤ۔

دل سے، خاموشی کے رنگ

اگلی غزل پڑھیں → [شاعری کا مجموعہ](/category/shayari)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top